موجودہ موسم کے لحاظ سے پائے جانیوالی بیماریاں اور ان کا حل

Posted in CategoryPoultry Discussion
  • Rana Amin 3 years ago

     

    موجودہ موسم کے لحاظ سے پائے جانیوالی بیماریاں اور ان کا حل .
    ڈئیر فارمرز ھم موجودہ موسم کے لحاظ سے منیجمینٹ جیسے آرٹیکل کے ساتھ ساتھ موجودہ موسم کے لحاظ سے بیماریاں اور ان کا حل کے نام سے دوسرا آرٹیکل بھی وقتا فوقتا لکھنے کی کوشش کرے گے .تاکہ فارمرز کو بیماریوں کی بنیاد سے لیکر ان کے حل تک کی کوششوں کو تقویت ملے .ھم کوشش کرتے ھے کہ مکمل احاطہ کرے .
    اس وقت پاکستان کے برائلر لیئر اور دیسی فارمرز کو جس بیماری کا سامنا ھے وہ ھے سالمونیلا پلورم اور فاؤل ٹائیفائیڈ .
    Salmonellosis in poultry.
    مختلف بیماریاں جو ایک ھی گروپ سے سالمونیلا سے تعلق رکھتی ھے انہیں سالمونیلوسس کہتے ھے .یہ مختلف بیماریاں مندرجہ ذیل ھے .
    سفید دست (Pullorum Disease)
    متعدی بخار (Fowl typhoid)
    یہ دونوں بیماریاں چھوت کی بیماری ھے .بہت تیزی سے پھیلتی ھے .
    سفید دست .
    سالمونیلا پلورم نامی یہ جراثیم مرغی سے براہ راست انڈوں میں سرایت کرتا ھے اس لیے ھم اسے بریڈر سے وراثت میں ملنے والی وراثتی بیماری بھی کہتے ھے .یہ چھوت کیطرح لگتا ھے .یہ جراثیم انکوبیٹر سے چوزے تک تمام کو متاثر کرتا ھے .اور ستر سے نوے فیصد تک شرح اموات واقع کرنے صلاحیت رکھتا ھے .
    اس بیماری کی سب سے واضح علامت سفید لیس دار دست ھے .اور یہ لیسدار معدہ مقعد کے اردگرد واضح چپکا ھوا نظر آتا ھے .جیسے پیسٹنگ بھی کہا جاتا ھے .چوزے کو بیٹھ کرنے میں تکلیف ھوتی ھے .چھوٹے چوزوں کا اچانک مرنا اور بظاھر کسی قسم کی بیماری کی علامات بھی نظر نہ آئے .یہ بھی ایک بڑی نشانی ھے .اگر اس کا بروقت تدراک نہ کیا جائے تو چوزے کو جگر تلی اور جوڑوں کے ساتھ ساتھ تیز بخار بھی ھو جاتا ھے .جگر میں سوزش کے علاوہ سیاہ دھبے اور ھوا لگنے پر جگر کی رنگت سبزی مائل ھو جاتی ھے .
    چوزے کے برعکس انڈے دینے والی مرغیوں میں سبز رنگ کے دست لگ جاتے ھے .اور انڈوں سے بچے نکلنے کی شرح میں کمی آ جاتی ھے .
    متعدی بخار (Fowl typhoid)
    یہ بیماری Salmonella gallinarum نامی جراثیم سے پھیلتی ھے .اس کا حملہ بالغ یا انڈے دینے والی مرغیوں میں زیادہ ھوتا ھے .یہ بیماری چھوت کیطرح تیزی سے پھیلتی ھے .
    اس کی واضح علامات سینے کا گوشت لال ھو جانا .اندرونی اعضاء زرد رنگ کے نظر آتے ھے .
    مرغی کو تیز بخار ھو جاتا ھے .
    پیاس بڑھ جاتی ھے .بھوک کم ھو جاتی ھے .جگر بڑھ جاتا ھے .آنتڑیوں میں سوزش کیوجہ سے پتلے موشن کی سی کیفیت نظر آتی ھے .
    انڈے والی مرغی کی کلغی کا رنگ سیاہ ھوجاتا ھے اور پروڈکشن میں کمی آ جاتی ھے .
    زردی مائل سبز رنگ کے دست لگ جاتے ھے .

    سادہ زبان میں یہ کہ لے کہ بریڈر کی وراثتی بیماری سفید دست سے فاؤل ٹاٹیفائیڈ تک کہ ذمہ دار ھے .
    احتیاط .
    ھمیشہ چوزے اس کمپنی سے خریدے جس کا بریڈر صحت مند ھو یہ اس سے بچنے کا پہلا اور اھم ترین حل ھے .
    بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں حکومتیں ھیچریز کو ایسی بیماری سے پاک چوزے پر زور دیتی ھے بلکہ قانون موجود ھے .بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہی .وائرس سے پاک چوزہ ھمیشہ ایک خواب ھی رھا ھے .اور آج پاکستان کا ھر فارمر اس موذی مرض کیوجہ سے معاشی نقصان اٹھا رھا ھے .اور ھمارے پالیسی میکر ابھی بھی سو رھے ھے .
    فارمرز کو اپنے طور پر تصدیق کر کے چوزہ لینا چاھئے .یہی ایک احتیاط ھے .اور دعا کرے یہ جو اتنی ساری ایسوسی ایشنز ھے ان کو بھی نیند سے بیداری نصیب ھو تاکہ ایسا قانون پاکستان میں بھی موجود ھو اور فارمرز کو وائرس فری چوزہ ملے .
    علاج .
    اینٹی بائیوٹیک سے ان کا علاج ممکن ھے .
    فیورازولیڈون .فلوروفینکول نیومائیسین .سپروفلاکساسین .
    فیورازولیڈون چھوٹے چوزے کیلیے ھے .انڈے دینے والی مرغیوں کو تیرھویں ھفتے کے بعد فیورازولیڈون مت دے .
    ادویات سے علاج ممکن ھے .مگر ایک تیر بہدف نسخہ ھم بھی شیئر کر دیتے ھے جو فاؤل ٹائیفائیڈ کیلیے بہت زبردست ھے .
    صبح کی فیڈ میں ایک کلو چینی ایک کلو دودھ فی بیگ دے .دودھ اگر بھینس کا ھو تو بہتر ھے اسے گرم کر کے ملائی اتار لے .اس کے چھ گھنٹے بعد چھ گھنٹے الیکٹرولائٹ کا پانی دے .پھر تین دن فلوروفینکول اور نیومائیسن بارہ بارہ گھنٹے دے یا سپروسین تین دن مسلسل دے .یا اموکسی کولسٹین تین دن مسلسل دے .
    بشکریہ عمران رانا

Please login or register to leave a response.